" عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَفَى بِالْمَرْءِ كَذِبًا أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ. " بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نٓ وَ الۡقَلَمِ وَ مَا یَسۡطُرُوۡنَ ۙ
      FM RADIOS-Listen Live

ایران 1800سے پہلے

ایران تاریخ کے آئینے میں

ایران 625 بی سی ای سے 2026تک ہزاروں سالوں پر محیط تاریخ رکھنے والی قدیم ترین سلطنت

ایران صدیوں سے ایک اہم تاریخی ملک ہے۔ ا س کی سرحدیں پھیلتی اور سکڑتی رہی ہیں۔ مہدی نسل نے ایران کو بحثیت قوم متحد کیا۔ یہ 625 بی سی ای کی بات ہے جب ایرانی بادشاہت قائم ہوئی اور سینٹرل ایشیا سے آگے بڑھتی ہوئی بالقان اور شمال افریقہ تک پہنچ گئی۔ ایران طویل عرصہ تک دوسرے ممالک پر قابض رہا اور دوسرے بھی اس پر قابض رہے۔ یونانی، ترک، عرب اور منگول ایران پر قابض رہے مگر ایران کی معاشرت اورتاریخ کو کوئی نہ مٹا سکا۔

زبان کسی قوم کا بنیادی اور اہم حصہ ہوتی ہے۔ دنیا کے بے شمار خطے اپنی معاشرت اور زبان کھو چکے ہیں جن میں سیاہ فام افریقی سر فہرست ہیں۔ اب برصغیر پاک و ہند بھی انگریز سے آزادی حاصل کر لینے کے باوجود ان کا طرز زندگی اور زبان اپنا ر ہے ہیں ۔ ہندوستان کی نسبت پاکستان زیادہ تیزی سے اپنی قومی زبان کھوتا جا رہا ہے۔ پاکستان میں نہ تویکساں نظام تعلیم ہے اور نہ ہی نصابی اور دفتری زبان ایک ہے۔ اس کے برعکس ایران طویل عرصہ مقبوضہ ملک رہنے کے باوجود اپنی قومی شناخت قائم رکھنے میں کامیاب رہا۔ اس کا مقابلہ رومی بادشاہت اور بیزنٹائن جیسی بڑی اور وسیع قوتوں سے رہا۔ ایک ہزار سال تک ان بڑی قوتوں سے نبرد آازما رہنے کے بعد 633 میں اسلام نے ایرانی بادشاہت کو شکست فاش سے دو چار کیا۔ مقامی لوگوں نے اسلام تیزی سے قبول کیا۔ 1501میں ایک بار پھر ایران ایک آزاد و مختار ملک بن گیا۔ اس دفعہ شیعہ مسلک اس کا سرکاری مذہب بن گیا۔ ایران ایک بار پھر دنیا کی سرکردہ سیاسی قوتوں میں شمار ہو نے لگا۔ اس بار اس کے مقابل سیاسی قوت ترک بادشاہت تھی مگر ان کے درمیان کوئی بڑی محاذ آرائی نہ ہوئی۔

ایران 1501 سے لے کر 1979 تک شاہی خاندان نے ایران پر حکومت کی ۔ اس کا آخری بادشاہ رضا شاہ پہلوی تھا جو ایرانی انقلاب کے نتیجے میں ملک سے بھاگ گیا۔ اتنا طویل عرصہ ایران پر بلا شرکت غیر ے حکومت کرنے والی قوت کو شکست دینا یقیناً ایک غیر معمولی واقعہ تھا۔ انقلاب کی قیادت کرنے والے آیت اﷲخمینی کے پاس دولت کے بجائے صرف نظریاتی اور عوامی طاقت تھی جس کو امریکہ جیسی بڑی سپر پاور بھی نہ روک سکی۔ امریکہ ایرانی انقلاب کے ہاتھوں بری طرح سیاسی شرمندگی سے دو چار ہؤا۔ امریکہ نے تین جہاز ایران میں اپنے یرغمالیوں کو زبردستی چھڑانے کے لیے بھیجے جو فضا میں ہی گر کر تباہ ہو گے۔ میں اس وقت نیا نیا یورپ میں گیا تھا۔ بعض یورپی مذاق کرتے تھے کہ آیت اﷲ خمینی نے اپنا میجک ہاتھ کھڑا کیا اور جہاز گر گئے۔ کہا جاتا ہے کہ امریکہ نے بدلہ لینے کے لیے صدام حسین سے ایران پر حملہ کروایا۔ یہ جنگ سات سال تک جاری رہی مگر ایران کو شکست نہ دی جا سکی۔ البتہ صدام حسین خود امریکہ کے ہاتھوں مارا گیا۔ اب امریکہ کا کہنا ہے کہ عراق اور افغانستان میں اس کی فوجی مداخلت ایک سیاسی غلطی تھی۔ انگریز اور امریکیوں کے بارے کہا جاتا ہے کہ وہ بہت سوچ سمجھ کردور اندیشی سے پالیسیاں اور منصوبے بناتے ہیں۔ معلوم نہیں وہ قبل از وقت ان غلطیوں کا اندازہ کیوں نہ لگا سکے۔

ایرانی انقلاب کی دوسری غیر معمولی بات یہ ہے کہ ایران ۔عراق جنگ اور بیرونی مخالفت کے باوجود دوسرے اسلامی ممالک کے برعکس ایران کا جمہوری سفر جاری رہا۔ یکم اپریل 89 کو ایران ایک اسلامی جمہوریہ قرار دیا گیا۔ آیت اﷲ خمینی ایک روحانی لیڈر تھے جن کے حکم سے ایران کا نیا آئین بنایا گیا۔ اس آئین کے مطابق سپریم ہیڈ کو ریاست کا سربراہ جبکہ صدر اور وزیر اعظم کو حکومت کا سربراہ بنایا گیا۔ ایرانی انقلاب کے پہلے صدر محمد علی رجائی اور وزیر اعظم بنی صدر منتخب ہوئے۔ یہ دونوں تیس اگست 81 کو قتل کر دئیے گے۔ علی خامنائی، اکبر ہاشمی رفسنجانی ، محمد خاتمی اور احمدی نجاد دو دو مرتبہ صدر منتخب ہوئے۔ موجودہ صدر حسن ربانی ہیں جو گزشتہ سال تین اگست کو منتخب ہوئے۔ امام آیت اﷲ خمینی کا کوئی رشتہ دار ان کا جانشین نہیں بنا ۔ بلکہ ان کے نظریاتی دینی ساتھی یکے بعد دیگرے صدر منتخب ہوئے۔

کسی مبالغہ آرائی کے بغیر ایران کے جمہوری سفر کو خراج تحسین پیش کیا جا سکتا ہے ۔ اس کے برعکس دوسرے اسلامی ممالک میں ترکی اور ملیشیا کے علاوہ جمہوریت ہے نہ اسلامی قانون۔ ترکی میں بھی صرف موجودہ حکومتی جسٹس پارٹی فوج کو سیاست سے دور رکھنے میں کامیاب ہوئی ہے ۔ جبکہ عرب ممالک میں جہا ں کہیں الیکشن ہوتا ہے حکومتی سربراہ 99فی صد ووٹ حاصل کرنے کا دعوی کرتا ہے ۔ اب تک کوئی اپنی مرضی سے نہیں گیا۔ کوئی قتل ہؤا ، کوئی پابند سلاسل کیا گیا۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کی جمہوریت بھی برائے نام ہے۔ ان دونوں ممالک میں مخصوص خاندانوں کا قبضہ ہے جو جمہوریت کے بجائے موروثیت کو پروان چڑھا رہے ہیں۔ ان حالات میں ایران کی تعریف کی جانی چائیے جہاں انقلاب ایران سے لے کر اب تک کسی بھی پیشرو اور جانشین کا آپس میں خاندانی تعلق نہیں رہا۔ اﷲ کرے ایران کا جمہوری نظام مزید بہتر ہو اور باقی اسلامی ممالک بھی حقیقی جمہوری سفر شروع کرنے کی ہمت و جرات کر سکیں۔


About us| Privacy Policy| Terms & Conditions| Disclaimer| Contact us                                ہمارے با رے میں | پرائیویسی پالیسی| شرائط و ضوابط| دستبرداری| رابطہ|

© 2024-2028 VOA Pakistan       |       Follow us: Facebook | Youtube | Twitter/ X | Instagram |

وزٹرز کی تعداد: لوڈ ہو رہا ہے...